فلسطین میں مسلمانوں کے قبلہ اول کی انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں بے حرمتی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جمعرات کے روز اسرائیل کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت کے رہ نما کی قیادت میں غیرملکی یہودی غنڈہ گردوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اس میں ہلڑ بازی کی،
بھنگڑے ڈالے، شراب پی اور بعض نے یہودی تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کیں۔ مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند یہودیوں کی یہ اشتعال انگیز کارروائی "اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” کی جانب سے بتائی گئی ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن مسجد اقصیٰ کی تعمیر و مرمت کی سب سے بڑی ذمہ دار تنظیم سمجھی جاتی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کےمطابق الاقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز اسرائیلی حکمران جماعت "لیکوڈ” کے ایک سرکردہ لیڈر”موشے فائگلین” غیرملکی یہودیوں اور دیگر سیاحوں کو لے کر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔اس موقع پر اسرائیلی فوج اور پولیس بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے قبلہ اول کے قریب تعینات کی گئی تھی۔
بیان کے مطابق یہ انتہاپسند یہودی آباد کار موشے فائگلین کی قیادت میں کئی گھنٹے تک مسجد اقصیٰ کے مختلف مقدس مقامات میں گھومتے رہے۔ اس دوران فلسطین نمازیوں کو قبلہ اول سے نکال دیا گیا اور کسی بھی مسلمان کو مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تا آنکہ یہودی آباد کار وہاں سے نکلے تو مسلمانوں کو نماز کے لیے قبلہ اول میں داخلے کی اجازت دی گئی۔
بعض یہودی آباد کاروں نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مسجد اقصیٰ کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تصویر ہیکل کی تعمیر میں نعرے درج تھے۔
ادھر دوسری جانب اسرائیل کی مختلف خبررساں ویب سائیٹس پر ایک ویڈیو فوٹیج تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں انتہا پسند یہودی خواتین کے ایک گروپ نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اس کی بے حرمتی کی ہے۔ یہ عورتیں مسجد اقصیٰ میں اجتماعی رقص کر رہی ہیں، جس کے بعد انہوں نے قبلہ اول میں بیٹھ کر شراب بھی پی اور عبرانی زبان میں گانے گائے۔
ادھر گذشتہ دو ماہ کے دوران مسجد اقصیٰ کی تعمیر و مرمت کی ذمہ دار تنظیم اقصیٰ فاؤنڈیشن نے قبلہ اول سے فلسطینیوں کا رابطہ برقرار رکھنے کے لیے مختلف اوقات میں 1000 بسوں کے قافلے روانہ کیے ہیں۔ بسوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطینی کےمختلف شہروں، بیت المقدس اور مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں لایا اور لے جایا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

