فلسطینی محصور شہر غزہ کی پٹی میں جمعۃ الوداع کے موقع پر عالمی یوم القدس کے حوالے سے نکالے گئے جلوس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعۃ الوداع کے اجتماعات اور نماز کی ادائیگی کے بعد تمام مساجد سے قافلوں کی شکل میں شہری غزہ کے وسط میں الشوار ٹاور کی طرف فلسطینی اور حماس کے پرچم اٹھائے چل پڑے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر بیت المقدس کی آزادی، اسرائیلی جرائم کے خلاف اور فلسطین و مسجد اقصیٰ کی آزادی کے حق میں نعرے درج تھے۔یوم القدس مارچ میں اسلامی تحریک مزاحمت‘‘حماس’’ ،اسلامی جہاد، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ غزہ کے وسط میں ہزاروں فلسطینیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عوامی محاذ کے رہ نما رباح مہنا نے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ یوم القدس کے موقع پر قوم سے یکجہتی کا اعلان کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صہیونی ریاست کے ساتھ جاری نام نہاد امن مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس کی اسرائیل نواز پالیسی نے فلسطینیوں کو منتشر کر کے رکھ دیا ہے اور قومی مفاہمت کی تمام مساعی رائیگاں جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض بیان بازی سے مسائل حل نہیں ہوتے اور نہ ہی مسئلہ فلسطین حل ہو سکتا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور رام اللہ اتھارٹی کا صہیونی فوج کے ساتھ سیکیورٹی تعاون مسائل کی جڑ ہیں۔ جلسےسے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی فلسطین میں یہود گردی کی شدید مذمت کی اور بیت المقدس کے خلاف جاری صہیونی سازشوں کو خطرناک قرار دیا۔
