فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے اپنے مصری ہم منصب ھشام قندیل سے اپنی ملاقات میں فلسطینی قوم بالخصوص اہل غزہ کی شدید مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مصری وزیر اعظم کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ مصر آنے والے اسماعیل ھنیہ کی سربراہی میں حماس کے وفد نے پیر کی شام قندیل سے ملاقات کی۔
مصری ایوان وزیر اعظم میں ہونے والی یہ ملاقات لگ بھگ دو گھنٹے جاری رہی۔ دوران ملاقات حالات مثبت رہے۔ دونوں جانب سے متعدد معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کیا گیا۔ مصر اور فلسطین دونوں کے وفد نے مصر اور فلسطین کے مابین تعلقات کو مزید بڑھانے پر بھی غور کیا۔ اس دوران بہت سے دیگر اہم امور بھی زیر غور آئے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے آغاز میں مصری وزیر اعظم ھشام قندیل نے اسماعیل ھنیہ کے دورہ مصر کے موخر ہونے کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ ان کاکہنا تھا کہ سکورٹی انتظامات بالخصوص سینا کے واقعے کے بعد مصری مسلح افواج نے خصوصی سکیورٹی آپریشن شروع کر رکھے تھے، ھشام قندیل نے کہا کہ ہمارے لیے فلسطینی وزیراعظم کی جان انتہائی قیمتی ہے۔ چنانچہ سکیورٹی انتظامات درست کرنے کے لیے ان کے اس دورے کو موخر کرنا پڑا۔
خیال رہے کہ فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے گزشتہ ہفتے مصر کا دورہ کرنا تھا تاہم مصر کے شمالی صحرائے سینا کے نامساعد حالات کے باعث ان کے دورے کو ملتوی کردیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ اسماعیل ھنیہ اور ھشام قندیل نے دو طرفہ تعلقات پر گفتگو کی، غزہ کے محاصرے، یہاں پر بجلی کی پیدوار میں کمی، مصر سے ملحق غزہ کی کراسنگ کھولنے، مصری سرحد پر زیر زمین سرنگوں کو بند کرنے کے معاملات زیر غور آئے۔
دوسری جانب فلسطینی حکومت کے ترجمان طاھر نونو نے بھی منگل کے روز جاری اپنے بیان میں بتایا کہ فلسطین اور مصر کے وفود کے درمیان گفتگو مثبت رہی۔ ملاقات میں غزہ کے بجلی بحران، محاصرے، اس کی تعمیر نو اور القدس میں جاری اسرائیلی حملوں سمیت تمام اہم معاملات پر گفتگو کی گئی ہے۔
طاھر نونو نے بتایا کہ مصر اور فلسطین کےدرمیان مذاکرات کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ مصری قیادت کی نیک نیتی کے باعث فلسطین کی بہت سی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
