خبر رساں ایجنسی قدس پریس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رزقہ کا کہنا تھا کہ حالیہ حملے بھی اسی اسرائیلی پروگرام کا حصہ ہیں جس کے مطابق اسرائیل غزہ کو غیر اعلانیہ امن پر مجبور کرکے علاقے پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کو غزہ پر حملے کرنے، بمباری کرنے، مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے، سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دراندازی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے وہ غزہ سے راکٹ حملوں کا جواز بنا کر کچھ بھی کرلیتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی دشمن کو معلوم ہے کہ اس کے پاس ایسی قوت ہے جس کا غزہ کے مزاحمت کاروں کی صلاحیت کے ساتھ موازنہ کیا جاسکے۔ وہ چاہتا ہے کہ اہل غزہ ہمیشہ سفید جھنڈا لہراتے رہیں اور مزاحمت کاروں کے لیے یہاں کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی اس اسٹریٹجی سے فلسطین کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ دشمن کے ان حملوں پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رزقہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے غرور اور فوجی صلاحیت کے بل بوتے پر ہمیشہ یہ سوچتا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر چاہے جتنے مظالم ڈھا لے اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور عرب اور اسلامی دنیا صرف کانفرنسوں اور سیمیناروں سے بڑھ کر اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھائے گی۔ انہوں نے غزہ پر جاری حملوں اور فلسطینیوں پر صہیونی مظالم کے خلاف عالمی برداری اور عالم اسلام کی خاموشی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عالمی اور عرب برادری کی پروا کیے پغیر اپنے مذموم منصوبوں کو عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
