فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی میں بجلی کے بدترین بحران کو ختم کرانے میں مدد کی فراہمی کے لیے مصری حکومت اور رام اللہ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر جزوی طور پر ایندھن کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ غزہ کو پاور جنریٹر کے لیے رات کے اوقات میں کرم ابوسالم گذرگاہ کے راستے ایندھن فراہم کیا جائے گا۔
فلسطینی اخبار”فلسطین” نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں ذرائع کےحوالے سے بتایا ہے کہ مصراور فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کو جزوی طور پر ایندھن کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے جس کے بعد شہر میں دو ماہ سے جاری توانائی کے بحران کے خاتمے میں مدد فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ کو فراہم کردہ صنعتی ایندھن کی قیمت فی لٹر اسرائیلی کرنسی میں تین شیکل وصول کی جائے گی، جس میں کوئی اضافی ٹیکس شامل نہیں ہو گا۔
غزہ کی پٹی کو ایندھن کی فراہمی کا یہ فیصلہ فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کی جانب سے مصر اور مغربی کنارے کی انتظامیہ سے مسلسل مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے۔ غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے نائب وزیراعظم محمد عوض کو ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ قاہرہ روانہ کیا تھا تاکہ وہ غزہ کی پٹی میں جاری توانائی کے بحران کے حل میں قاہرہ حکام سے بات چیت کر سکیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی میں گذشتہ کئی ماہ سے توانائی کا سنگین بحران پایا جا رہا ہے۔ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ملی بھگت کے تحت غزہ میں بجلی کا بحران پیدا کیا گیا ہےتاکہ شہر میں حماس کی حکومت کو ناکامی سے دوچار کیا جا سکے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

