فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں پولیس حکام نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر شہر میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش ناکام بنا دی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ایک جاسوس سمیت متعدد دیگرسازشی عناصرکو حراست میں لیا ہے۔ جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے ایک شخص نے اپنا نام” قیس البارودی” بتایا ہے اور کہا ہے وہ اسی شہرمیں رہتا ہے۔غزہ میں اس کے دسیوں ساتھی خفیہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے”غزہ بغاوت تحریک” کے نام سے ایک تنظیم قائم کر رکھی ہے اور قیس البارودی کے بہ قول وہ اس تنظیم کا ترجمان ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہرمیں موجود تمام افراد کا ڈیٹا اکھٹا کیا ہے لیکن انہیں کہیں سے بھی "قیس البارودی” کا نام کسی جگہ رجسٹرڈ نہیں ملا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق غزہ کی پٹی سے نہیں بلکہ شہر سے باہر سے یہاں آیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین نے اپنے طور پر تحقیق کی ہے اور پتہ چلایا ہے کہ "قیس البارودی” نام کا ایک شخص مغربی کنارے کے شہر نابلس میں موجود ہے۔
سیکیورٹی فورسزنے حراست میں لیے گئے مبینہ قیس البارودی اسرائیلی جاسوس کی نشاندہی پر کئی دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔ دوران تفتیش انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی میں بغاوت کی تحریک برپا کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا۔ نیز ان کے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں اور رام اللہ اتھارٹی کے انٹیلی جنس کے ساتھ بھی روابط رہے ہیں۔
غزہ پولیس کا کہنا ہے کہ زیرحراست افراد نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں باہر سے فنڈز ملتے رہے ہیں۔ یہ فنڈز انہیں غزہ میں حماس کی حکومت کے خلاف بغاوت کی تحریک برپا کرنے کے عوض دیے جاتے تھے، تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ملزمان کو کہاں کہاں سے فنڈز فراہم کیے جاتے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
