فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے وزیراعظم اپنے انیس روزہ بیرون ملک کے دورے سے جمعرات کو وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہےکہ وہ غزہ کی پٹی میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مصر سمیت دیگرعرب ملکوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق جمعرات کی شام مصر سے زمینی راستے سے غزہ کی پٹی پہنچنے کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ان کا دوسرا بیرون ملک دورہ نہایت کامیاب رہا۔اس دورے کے دوران انہوں نے خلیجی ممالک کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اردن کے حکام سے ملاقاتوں میں غزہ میں توانائی سمیت تمام بحرانوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ تمام اسلامی اور عرب ممالک نے غزہ میں توانائی کے بحران کے حل اور تعمیرنو میں ہرممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کئی عرب ممالک کی جانب سے غزہ کی پٹی کو مصر کے راسے مفت ایندھن کی فراہمی کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور کئی خلیجی ممالک غزہ کی پٹی میں بےگھر شہریوں کو گھر تعمیر کر کے دینے سمیت شہرکی تعمیرنو میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیرون ملک دورے کے دوران”مدینۃ المحررین”کے نام سے ایک شہر تعمیرکرنے کی تجویز دی۔ عرب ممالک نے غزہ کی پٹی میں اس طرح کے کسی بھی پروجیکٹ میں کھل مالی تعاون کرنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدینۃالمحررین گذشتہ برس اسرائیل سے رہائی پانے والے فلسطینی شہریوں کی یاد میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت کے حوالے سے سوال پر اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ انکی جماعت حماس اور حکومت مفاہمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے حماس کی قیادت میں اعلان دوحہ پر اختلافات سے متعلق افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

