مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق صہیونی حکومت نے شمال مشرقی خان یونس میں ایک بڑا فوجی اڈا قائم کیا ہے جس کا کچھ حصہ سنہ 1948ء میں السریج تک پھیلا ہوا ہے۔ دوسری طرف یہ خان یونس کے القرارہ قصبے سے متصل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے فوجی اڈے کو چاروں طرف سے سیمنٹ کے بڑے بڑے بلاکس کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے اور اندر جنگی مشقیں جاری ہیں۔ فوجی اڈے کے اندر فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ میں ان فوجی مشقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں سے نمٹنے اور ان کی کھودی گئی سرنگوں کو تباہ کرنے کے تجربات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے فوجی کیمپ کے احاطے میں زور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہی ہیں۔ یہ آوازیں جنگی مشقوں کا حصہ تھیں جو کیمپ میں کئی روز سے جاری ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہےکہ غزہ کی پٹی کے علاقے پر قائم یہ فوجی کیمپ فلسطینی شہریوں بالخصوص کسانوں کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کیمپ کے قریب کھیتی باڑی کرنے والے شہریوں پر صہیونی فوج کی جانب سے کسی وقت بھی فائر کھولا جا سکتا ہے۔
