غزہ کی وزارت داخلہ کے انسانی حقوق یونٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیل میں قید 82 دنوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے اسیر ایمن اطیبش کی صحت کی پوری ذمہ داری اسرائیلی جیلروں پر ہے۔
یونٹ نے منگل کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں خبردار کیا کہ بھوک ہڑتالی اسیر ایمن اطیبش کسی بھی وقت اچانک موت کے منہ میں جاسکتے ہیں کیوںکہ ان کی صحت بہت تیزی سے خراب ہورہی ہے۔
اسیر ایمن اطیبش کچھ قبل ہی شدید بیمار ہوگئے تھے جس کی وجہ سے انہیں عصاف حروفہ ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ ان کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد سے اب تک اتابش آکسیجن لگائی گئی ہے جبکہ ان کے دل کی دھڑکن کو بھی مانیٹر کیا جارہا ہے کیوںکہ ڈاکٹرز کے مطابق ان کے دل کے پٹھے کمزور ہوگئے ہیں۔
ایک اور واقعہ کے مطابق اسرائیلی جیل انتظامیہ نے رامون جیل میں قید نابلس کے اسیر باسم خندکجی کو ان کے خاندان سے ملنے سے روک دیا۔ اسیر کے بھائی نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ وہ اپنے بھائی سے ملاقات کے لئے تیار ہورہے تھے کہ ریڈ کراس کے ایک نمائندے کو بتایا گیا کہ جیل انتظامیہ نے ان کو دورے سے روک دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
