خلیجی ریاست قطر کے ایک دولت مند شہری نے فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں سنہ 2009ء میں اسرائیل کے حملے میں شہید ہونے والی مساجد کی تعمیر نو کے لیے پانچ لاکھ ڈالرز کے عطیے کا اعلان کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قطری شہر الشیخ علی السادہ نے غزہ کی تباہ حال مساجد کی بحالی کے لیے یہ خطیر رقم غزہ کے دورے کے دوران جاری کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں آمد کے بعد نہ صرف شہر کی جنگ سے شہید ہونے والی مساجد کا دورہ کیا بلکہ فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کے ساتھ بھی ملاقات کی۔
غزہ کی پٹی میں حماس کےوزیراعظم اسماعیل ھنیہ سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں شیخ علی السادہ نے کہا کہ وہ محصورین غزہ کی مدد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صہیونی جارحیت میں شہید ہونے والی مساجد کی تعمیر نو کے لیے انہوں نے جس رقم کا اعلان کیا ہے وہ جلد ادا کردی جائے گی۔
اس موقع پر وزیراعظم ھنیہ نے کہا کہ شیخ علی السادہ نے پہلے بھی غزہ کی پٹی میں شہید مساجد کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کیے تھے۔ ان کے دیے گئے فنڈز سے غزہ کے شمال میں شیخ رضوان کالونی میں جامع مسجد تقویٰ کی تعمیر مکمل کی گئی ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے محصورین غزہ کی مدد جاری رکھنے پر نہ صرف قطری حکومت کا شکریہ ادا کیا بلکہ شیخ علی السادہ جیسے مخیرحضرات کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے غزہ کی شہید مساجد کو دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2009ء کے شروع میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے‘‘لیڈ کاسٹ’’ نامی آپریشن میں ایک سو کے قریب مساجد شہید یا جزوی طوپر پر متاثر ہوئی تھیں۔ مسلسل معاشی ناکہ بندیوں کے باعث ان میں سے بیشتر مساجد کی تعمیر مکمل نہیں کی جا سکی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
