رپورٹ کے مطابق جمعرات کو جنین میں فلسطینی وزارت تعلیم کے ہیڈ کواٹر کے باہر جمع ہونے والے ہزاروں اساتذہ نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ رہنماؤں نے فلسطین اتھارٹی کی انتقامی پالیسیوں اور معلمین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی اور گرفتار کیے گئے تمام اساتذہ اور طلباء کو فوری طورپر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی طاقت کے استعمال سے ان کے حقوق سلب نہیں کرسکتی اور نہ گرفتاریاں ان کے مطالبات کے حصول کے لیے جاری جدو جہد کو روک سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والے اساتذہ اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اساتذہ کے اصولی مطالبات تسلیم کرنے پرتیار ہے۔ مطالبات پورے ہونے کی یقین دہانی پر اساتذہ مظاہرے ختم کردیں گے۔
خیال رہے کہ فلسطین کے مغربی کنارے میں اساتذہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے اساتذہ کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے بجائے اس میں تاخیری حربے استعمال کرنا شروع کردیے۔ اس پراساتذہ نےاحتجاج کیا تو فلسطینی اتھارٹی نے پولیس گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اساتذہ کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔
