(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربے کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے دو سگے بھائیوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان پرالزام ہے انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں پر گھات لگا کرحملہ کرکے چار فوجیوں کو زخمی کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فوجی ذرائع کے حوالے سےخبر نشرکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الخلیل شہر کے دو سگے بھائیوں کو ایک فوجی سیل تشکیل دینے، گھات لگا کر اسرائیلی فوجیوں پرحملوں اور فوجیوں پر اسلحے کے استعمال سمیت متعدد دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے غرب اردن کے شہر الخلیل سےدو سگے بھائیوں 23 سالہ نصر فیصل محمد بدوی اور 33 سالہ اکرم فیصل محمد بدوی کو ابو اسنینہ کالونی سے گرفتار کیا۔
دوران تفتیش دونوں نے اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کے متعدد واقعات میں چار اسرائیل فوجیوں کو زخمی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ اس نے پرانے الخلیل شہر بالخصوص مسجد ابراہیمی کے قریب یہودی فوجیوں پر حملے کا منصوبہ 25 نومبر کو بنایا اور اس نے اپنے بڑے بھائی سے اس سلسلے میں رابطہ کرکے اس سے معاونت طلب کی۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں نے ایک فوجی سیل بنانے کے بعد یہودی فوجیوں پر قاتلانہ حملے شروع کردیے تھے۔ حراست میں لیے گئے ایک فلسطینی نوجوان کا کہنا ہے کہ اس نے یہودی فوجیوں پرحملوں کا فیصلہ اس وقت کیا جب فوجیوں کی فائرنگ سے الخلیل شہرمیں ایک معمر فلسطینی خاتون کو شہید کردیا گیا تھا۔
