اسرائیلی پارلیمنٹ کی جوڈیشل کمیٹی نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں اور فوجیوں کے قتل کی پاداش میں عمرقید کے سزا یافتہ فلسطینیوں کو کسی بھی معاہدے کے تحت رہا نہیں کیا جائے گا۔
اس قانون کی منظوری کے بعد فلسطین میں اسیران کی رہائی بالخصوص عمر قید کے سزا یافتہ افراد کی کئی سال کی اسیری کے بعد ان کی رہائی کے امکانات کو ختم کرنے کی سازش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں عمر قید کسی خاص عرصے تک نہیں ہوتی بلکہ تاحیات قید سمجھی جاتی ہے۔
تاہم مسودہ قانون میں قرار دیا گیا ہے کہ اسرائیل کی کوئی بھی مجسٹریٹ عدالت کسی فلسطینی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی اور عدالت کسی بھی عمر قید کے سزا یافتہ شخص کو کم سے کم 40 سال قید کی سزا کا حکم دے سکے گی۔ اس قانون کی منظوری کے بعد کوئی قیدی اپنی اسیری کے 15 سال مکمل ہونے کے بعد سزا میں تخفیف کی درخواست نہیں دے سکے گا۔
پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد مسودہ قانون کو پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا جہاں اس پر غور کے بعد رائے شماری کی جائے گی۔ غالب امکان ہے کہ صہیونی پارلیمنٹ بھی اس مسودہ قانون کی منظوری دے دے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
