اسرائیل میں ایک فوجی عدالت نے جمعرات کے روز بزرگ فلسطینی رہنما الحاج عطا عیاش کو چار ماہ قید اور 8150 ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان پر دشمن تنظیم کے لئے خدمات سرانجام دینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ عطا عیاش، فلسطینی کمانڈر شہید یحی عیاش کے چچا ہیں۔
عطا عیاش کے اہل خانہ نے سالم فوجی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ عدالتی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے جس سے اسرائیل کے زوال کی نشاندہی ہوتی ہے۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ عطا عیاش کو سزا اور جرمانے کی سزا دراصل فلسطینیوں کو درپیش ان اسرائیلی مظالم کا حصہ ہے کہ جسے روا رکھتے ہوئے وہ ادنی انسانی روایات کا بھی پاس نہیں رکھتا اور اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو دیوار سے دے مارتا ہے۔
فلسطینی رہنما عطا عیاش مغربی جنین کی مجدو جیل میں قید ہیں۔ گرفتاری کے فورا بعد انہیں مقبوضہ فلسطین کی بیتح تکفا جیل میں رکھا گیا، جہاں سے انہیں ایک ماہ بعد مجدو جیل منتقل کر دیا گیا۔
انہیں تیرا اپریل کو شاہ حسین پل پر اردن آمد کے موقع پر گرفتار کیا گیا۔ وہ مغربی کنارے کی سلفیت گورنری کی رافات بلدیہ سے روٹین کے سفر سے واپس آ رہے تھے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
