اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے رہنما عزت الرشق نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور خفیہ ملاقاتوں کی خواہش اور اس کے ساتھ ساتھ قومی مفاہمت کی ضروریات سے انکار کرنا مسئلہ فلسطین اور اس کے مستقبل کے لئے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے قومی اتفاق رائے کے بغیر یکطرفہ فیصلے کرنے کے خطرات سے خبردار کیا۔
خبر رساں ایجنسی قدس پریس کو دئیے جانے والے ایک بیان میں عزت الرشق نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمینوں اور مقدس مقامات پر حملوں کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی مذاکراتی ٹیم کی اسرائیل کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کی مذمت کی۔ ان حملوں میں سے سب سے تازہ واقعہ مسجد اقصٰی کے مروانی ہال کے اوپر ایک یہودی معبد کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔
ایک اور صیہونی منصوبہ قدیم یروشلم میں پرانی عمارتوں کی مرمت و تعمیر نو کا ہے جس کے مطابق پرانی اور تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی تعمیر و مرمت اسرائیل کرے گا۔ یہ سب اور اس کے علاوہ روزانہ کی بنیادوں پر فلسطینی گھروں کی مسماری، نسل کشی اور فلسطینیوں کا قتل عام تو ویسے ہی جاری ہے۔
رشق نے کہا،” مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والے تمام یکطرفہ فیصلوں کو تمام فلسطینی گروہوں اور ان کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام نے مسترد کردیا ہے۔ فلسطینی عوام اپنے حقوق اور قومی بنیادوں کو کبھی نہیں چھوڑ سکتے اور ان حقوق کو چھیننے کی کسی بھی کوشش کے خلاف کھڑے ہوجائینگے۔”
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
