فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عرب ممالک میں جاری عوامی انقلاب کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ صہیونیوں کے تسلط سے آزاد نہیں ہو جاتا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں جبالیا کے مقام پر مسجد امین محمد میں جمعہ کی نماز سے قبل تقریر کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اور پورا عالم اسلام حقیقی تبدیلی کے دور سے گذر رہاہے۔ اس وقت اصطلاحات اور ان کے مفاہیم بدل رہے ہیں خطے کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے۔ دشمن اور دوست بدل رہے ہیں اور آمریت پر قائم حکومتیں آخری سانس لے رہی ہیں۔ اب آزادی جمہور کا دور ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کو زیادہ دیر تک دبا کرنہیں رکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عرب اور مسلم ممالک کے عوام نے پہلے مرحلے میں ظالم اور استبدادی حکومتوں کو بدلنے اوردنیا میں فساد پھیلانے والوں کے ہاتھوں سے اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس وقت جو نظام ہائے حکومت عوامی انقلابات کی نذر ہو رہے ہیں یہ وہی نظام ہیں جنہوں نے عالم اسلام کو خلافت جیسی نعمت سے محروم کیا۔ یہی وہ نظام ہیں جو صہیونی دشمن کو عالم عرب کے قلب میں برداشت کر رہے ہیں بلکہ اس کا تحفظ کر رہے ہیں۔ اس نظام کہنہ کے دن گنے جا چکے ہیں۔ اسرائیل اور اس کے حواری خود اپنی بقاء میں فکر میں لگے ہوئے ہیں۔ اب انہیں نوشتہ دیوار صاف دکھائی دے رہا ہے اور انہیں صاف معلوم ہوگیا ہے کہ وہ مظلوموںکے حقوق زیادہ دیر تک دبا کر نہیں رکھ سکتے۔ اسرائیلیوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ اندرونی اور بیرونی طورپر خلفشار کا شکار امریکا اور یوپ بھی اب اس کا تحفظ نہیں کرسکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حماس کے وفد کا مصری صدر کی جانب سے ایوان صدر میں استقبال عرب بہار انقلاب کی کامیابی کا ثمر ہے۔ سابق مصری دور حکومت میں حماس کی قیادت اور فلسطینیوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے لیکن مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے ایوان صدر میں حماس کی قیادت کا استقبال کرکے عالم اسلام کے دشمنوں کویہ پیغام دیا ہے کہ فلسطینی اور مصری یک جان و دوقالب ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
