فلسطینی اتھارٹی مفاہمتی معاہدے کو دو سال بیت چکنے کے باوجود اس پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے لیت و لعل سے کام لے رہی تھی تاہم اب امریکی صدر اوباما کے دورے کے تناظر میں اس نے گزشتہ کچھ عرصے سے مفاہمت کے حوالے سے پائی جانے والی مثبت فضاء کو یکسر مسترد کرتے ہوئے قومی اختلافات ختم کرنے کی تمام کوششیں روک دی ہیں۔
ڈاکٹر بردویل نے غزہ کے شہر خان یونس میں الاقصی یونیورسٹی کے اسلامک بلاک کی جانب سے منعقد کی گئی ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ مصری دارالخلافہ قاھرہ اور دیگر اسلامی شہروں میں ’حماس‘ اور ’فتح ‘ کے مابین ہونے والے مذاکرات میں دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت کی تشکیل، انتخابات کے انعقاد، تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی تشکیل نو اور بنیادی آزادیوں کی بحالی سمیت اکثر امور طے پا چکے تھے، اس ضمن میں کچھ اشکالات رفع کرنے کے لیے صرف چند نشستوں کی ضرورت تھی۔
انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ صدر اوباما کی فلسطین آمد سے فلسطینیوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا یہ دورہ صرف فلسطینی اتھارٹی پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کرکے اسے دوبارہ فلسطینی قوم کی نمائندہ جماعت بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مصر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بردویل نے کہا کہ حماس مصر کے معاملات میں کسی طرح کی دخل اندازی نہیں کر رہی، ہم کسی کو مصر کے مسائل میں دخل اندازی کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ مصر میں ذرائع ابلاغ کی جانب سے حماس کے تاثر کو خراب کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی، مصر میں سیاسی معاملات امن کی جانب بڑھ رہے ہیں تاہم ڈاکٹر بردویل نے زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں اسلحہ لانا کوئی جرم نہیں ہے
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
