فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے زیر کمانڈ انٹیلی جنس پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے تفتیش کار سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر تشدد کرتے اور غیرانسانی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عباس ملیشیا کی جانب سے یہ اعتراف حال ہی میں "الحق” فاؤنڈیشن نامی ایک ادارے کی جانب سے جاری ایک ویڈیو فوٹیج کے بعد کیا گیا ہے۔ اس فوٹیج میں اسامہ الشوامرہ نامی ایک فلسطینی نوجوان کو دکھایا گیا ہے جسے عباس ملیشیا کے غنڈوں نے مسلسل تین دن تک ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں الشوامرہ کا جسم زخموں سے چور ہوچکا ہے۔عباس ملیشیا نے اپنے آفیشل فیس بک کے صفحے پر جاری ایک بیان میں "الحق” فاؤنڈیشن کی جاری کردہ ویڈیو فوٹیج کو درست قرار دیا ہے اور کہا ہے سیکیورٹی حکام نے الشوامرہ سے بدسلوکی کی تھی، وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں۔
پولیس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسامہ الشوامرہ کو حراست میں لیے جانے کے بعد تین دن تک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تیسرے دن اسے شدید زخمی حالت میں ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کے سامنے پیش کیا گیا۔
ادھر انسانی حقوق کی تنظین "الحق” کی جانب سے جاری ایک تصویری فوٹیج میں 28 سالہ اسامہ الشوامرہ کو گرفتاری کے بعد تشدد نشانہ بنائے جانے کی حالت میں زخموں سے چور دکھایا گیا ہے۔ خصوصی ذرائع سے حاصل ہونے والی ان تصاویر نے فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شہریوں سے حسن سلوک کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عباس ملیشیا نہتے شہریوں کے خلاف وہی وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے جو صہیونی عقوبت خانوں میں اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں پر استعمال کرتی ہے۔
