فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فوسز نے الخلیل شہرمیں صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک تقریب کے انعقاد پرپابندی عائد کردی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی خاتون سماجی رہ نما” بشریٰ الطویل نے بتایا انہوں نے صہیونی جیلوں میں قید فلسطینیوں سےاظہاریکجہتی اورانکےمسائل کو اجاگرکرنے کےلیے ایک مہم شروع کررکھی ہے۔ اس مہم کے تحت کل جمعرات کو الخلیل شہرمیں ایک تقریب کااہتمام کیا گیا تھا۔
تقریب کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد فلسطینی پولیس کی کچھ گاڑیاںموقع پرپہنچیں اورانہیں تقریب منعقد کرنے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ہمارے چارساتھیوں کوحراست میں بھی لے لیا۔ فلسطینی خاتون سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے ان کے کئی دوسرے ساتھیوں سے موبائل فون، آئی پیڈ، قومی شناختی کارڈ اورمریض اسیران کے لیےجمع کردہ تحائف اور پھولوں کی بڑی مقدار بھی چھین لی۔ یہ پھول اورتحائف اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی مریض اسیران تک پہنچائے جانے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
