احرار سنٹر برائے مطالعہ اسیران نے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جیل میں قید فلسطینی اسیرات کو طبی طور پر نظر انداز کرنے کی اسرائیلی پالیسی کے خاتمے کے لئے مداخلت کریں۔
اسیران کی فلاح و بہبود کے لئے قائم ادارے احرار سنٹر نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز اور تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی اسیرات کو ناقص طبی سہولیات فراہم کرنے پر مداخلت کریں اور قابض حکام پر دبائو ڈالیں تاکہ اس ناانصافی کا خاتمہ کیا جاسکے۔
سنٹر کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی خاتون اسیرات طبی طور پر نظر انداز کئے جانے اور ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسیرات کو بیماریوں کا صرف اس وقت ہی معلوم ہوتا ہے جب وہ کسی درد یا مشکل کا شکار ہوتی ہیں اس کےعلاوہ ان کا میڈیکل چیک اپ نہیں کیا جاتا ہے۔
اس وقت بھی اسرائیلی جیلوں میں 13 اسیرات قید ہیں اور ان میں سے ایک اسیرہ لینا جربونی ہیں جو کہ 17 سال قید کی سزا کاٹ رہی جبکہ ابھی حال ہی میں ان کی ایک سرجری بھی ہوئی ہے۔ اسرائیلی جیل حکام اسیرات کو نامناسب توجہ دے رہے ہیں جس کی وجہ سے جیل میں مختلف بیماریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
