مرکزاطلاعات فلسطین نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ سوموار کو علی الصباح ایتھوپیائی یہودی باشندوں نے پولیس گردی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے اپنے ساتھ ہونے والی معاشرتی نا انصافیوں اور نسلی امتیاز کی شکایت کی اورحکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایتھوپیا سے آئے سیاہ فام یہودیوں کو بھی سفید فام یہودیوں کے برابر مقام دلائے ان کے حق میں ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرے۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی ’’ 10 ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں ایتھوپیائی باشندے شریک تھے۔ مظاہرہ جاری تھا کہ اچانک قابض صہیونی فوجیوں نے ان پر لاٹھی چارج شروع کردیا۔ وحشیانہ تشدد اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔
قبل ازیں بیت المقدس میں ایک سفید فام یہودی پولیس اہلکار نے ایتھوپیائی فوجی اہلکار کی پٹائی کردی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج کے منظرعام پرآنے کے بعد ایتھوپیائی باشندوں نے پولیس گردی کے خلاف احتجاج شروع کردیا تھا۔ گذشتہ روز بیت المقدس میں ہوئے احتجاجی مظاہرے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت کم سے کم پندرہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔
آخری اطلاعات تک تل ابیب میں جاری مظاہرے میں جھڑپیں جاری تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تشدد سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد توقع سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
ایتھوپیائی فوجی پر پولیس اہلکار کے تشدد کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا ایک بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مضروب فوجی داماس باکادا سے ملاقات کے ساتھ ساتھ ایتھوپیائی شہریوں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیں گے۔
خیال رہے کہ ایتھوپیا سے سنہ 1984 ء اور 1991 ء کے دوران ایک لاکھ 35 ہزار یہودی اسرائیل منتقل ہوئے تھے، تاہم سیاہ فام ہونے کی بناء پر وہ اسرائیلی معاشرے میں مدغم نہیں ہوسکے بلکہ مسلسل نسلی امتیاز کا سامنا کررہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
