مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ بدھ کو اسرائیلی فورسز نے نابلس شہر میں فلسطینی شہریوں کی گرفتاری کے لیے گھروں پر چھاپے مارے۔ تلاشی کی کاروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں کو زدو کوب کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی سامان کی توڑپھوڑ بھی کی گئی۔
نابلس میں جامعہ النجاح کے کیمپس پر اسرائیلی فوج کے چھاپے میں اسلامک بلاک کے ارکان عبدالرحمان محمد بشتاوی، عبداللہ جھاد بنی عودہ، حاتم فراس الزاغہ، براء غسان ذوقان اور جامعہ سے انجینیرنگ میں فارغ التحصیل ہونے والے انیجینیر عبدالرحمان الوادی کوحراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
ادھر نابلس میں بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج نے تلاشی کی کارروائی میں فلسطینی شہریوں کو زدو کوب کیا۔ اسرائیلی فوج کے چھاپوں کے خلاف مقامی شہری گھروں سے سڑکوں پرنکل آئے اور انہوں نے صہیونی فورسز کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی نابلس میں قبلان قصبے میں بھی گھروں میں گھس کر تلاشی لی اور بچوں اورخواتین کو زدو کوب کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں موجود قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی گئی۔
فلسطین کے دوسرے شہروں الخلیل، رام اللہ ، بیت لحم اور قلقیلیہ میں بھی اسرائیلی فوجیوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے تلاشی کے دوران فلسطینی شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تلاشی کی کارروائی کے دوران عثمان بلاسمہ نامی فلسطینی نوجوان کو گرفتار کرنے کے لیے اس کے گھر پرچھاپہ مارا گیا تاہم گھر پرموجود نہ ہونے کے باعث اس کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ قابض فوجیوں نے گھر میں گھس کر قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی، بچوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں موجود نقدی زیورات لوٹ لیے۔
