مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس شہر کے مقامی سماجی کارکن غسان دغلس نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے نابلس میں زعترفوجی چوکی کےقریب ایک فلسطینی نوجوان محمد بسام ابو عمشہ کو گولیاں مار کرشہید کردیا۔ صہیونی فوجیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ قتل ہونے والے فلسطینی کے پاس ایک چاقو تھا جس کی مدد سے اس نے ایک فوجی پرقاتلانہ حملے کی کوشش کی تاہم مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے عمشہ کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں تھی۔ صہیونی فوجیوں نے نہتے فلسطینی کو گولیاں مار کرشہید کیا ہے۔ شہید فلسطین نوجوان کا آبائی تعلق غرب اردن کے جنین شہر میں کفر راعی کے مقام سے بتایا جاتا ہے۔
اسرائیل کی عبرانی نیوز ویب سائیٹ” 0404 ” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی نوجوان کو چار گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ سڑک پرگر کردیر تک تڑپتا رہا۔ اس کے جسم سے خون کی بڑی مقدار نکل چکی تو اس کے بعد اسے اٹھا کر ایک فوجی گاڑی میں ڈال دیا گیا۔ نیوز ویب پورٹل نے بھی صہیونی فوجیوں کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے کہ مقتول فلسطینی کے پاس آلہ قتل تھا جس کی مدد سے وہ اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔
اسرائیلی فوج کی اس وحشیانہ کارروائی کے بعد علاقے میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور فلسطینی شہریوں نے صہیونی فوج کی وحشیانہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف سڑکوں پرنکل کراحتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
