قابض صہیونی فوج کے تفیتش کاروں نے مقبوضہ فلسطین میں قائم "الرملہ” جیل کی اسپتال میں چھاپہ مار کر وہاں پر زیرعلاج مریض اسیران پر وحشیانہ تشدد کیا ہے۔ صہیونی فوجیوں نے مریض اسیران کے سامان کی بھی تلاشی لی اور کئی قیمتی اشیاء قبضے میں لے لیں۔
فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم ادارے”اسیران اسٹڈی سینٹر” کے مطابق صہیونی فوج کی "مسٹاڈا” بٹالین کے تفتیش کاروں نے جیل انتظامیہ کے ہمراہ الرملہ اسپتال پرچھاپہ مارا اور وہاں پر زیرعلاج کم سے کم 16 اسیران کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا۔ صہیونی فوجیوں نے مریض اسیران کی دوائیاں بھی تلف کردیں اور ان کا قیمتی سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
اسیران اسٹڈی سینٹر کے میڈیا ڈائریکٹر ریاض الاشقر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ رملہ جیل کی اسپتال میں صہیونی فوج کی تلاشی کی کارروائی مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے شروع ہوئی جو چھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران قابض فوجیوں نے نہ صرف نہتے مریض اسیران پروحشیانہ تشدد کیا بلکہ ان کا سامان اور ادویہ بھی تلف کر دیں۔
ریاض الاشقر کا کہنا تھا کہ صہیونی فوجیوں نے جیل اسپتال پراچانک دھاوا بولا اور قیدیوں کو صہیونی فوجیوں کی آمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
انسانی حقوق کے مندوب نے مریض اسیران کے وارڈ میں صہیونی فوج کی اس غیرانسانی کارروائی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غنڈہ گردی اور دہشت گردی کی تمام حدود پار کردی ہیں۔ اسپتال میں زیرعلاج اسیران پر تشدد اور انہیں زدو کوب کرنے کا کوئی آئینی اور اخلاقی جوازموجود نہیں ہے۔ مریضوں میں سے بعض از خود حرکت کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے ہیں۔ انہیں بیڑیوں میں جکڑنا اور ان پرتشدد کرنا ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
