فلسطین میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات کے تحت اسرائیل کی اعلی سطحی فوجی قیادت کے خلاف جنیوا میں عالمی عدالت انصاف (آئی سی سی) میں مقدمات کے قیام کی تیاریاں زور پکڑ گئی ہیں۔
جنیوا میں انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم کی جانب سے اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو غزہ کی پٹی میں دورے کے دوران صہیونی فوج کے جنگی جرائم کے شواہد اکھٹے کر رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق گروپ’’یورو مڈل ایسٹ ہیومن رائٹس‘‘ کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں وحشیانہ جارحیت کے دوران جنگی جرائم کا کھلے عام ارتکاب کیا ہے۔
صہیونی جنگی جرائم کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمات کا قیام انسانی حقوق کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اسی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے انہوں نے ماہرین قانون اور ماہرین جنگ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو صہیونی فوجی عہدیداروں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد جمع کر رہی ہے۔
یہ کمیٹی کےارکان غزہ جنگ کے دوران بھی شہرمیں آئے تھے۔ انہوں نے زخمیوں سے بھی ملاقاتیں کیں اور متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا۔ اس کے علاوہ جنگ میں استعمال ہونے والے اسلحے کے نمونے بھی حاصل کئے گئے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ صہیونی فوج کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کو جنگی جرائم کے حوالے سے مقدمات کے لیے نامزد کررہے ہیں۔ ان میں آرمی چیف جنرل بینی گانٹز، جنوبی ریجن کے کمانڈر ٹال روسو، فضائیہ کے سربراہ امیر ایچل بحریہ کے رام رابٹبرگ شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
