مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن کےسیاحتی شہر سلفیت میں اسرائیلی حکام، فوج اور مقامی سول صہیونی انتظامیہ نے یہودی توسیع پسندی کے کئی بڑے بڑے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن کے نتیجے میں مقامی فلسطینی آبادی سیکڑوں ایکڑ قیمتی اراضی سے محروم ہوگئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں اسرائیلی حکام بلڈروزروں کی مدد سے فلسطینی شہریوں کی زرعی اراضی کی کھدائی کرتے ہوئے اسے یہودی توسیع پسندی کا حصہ بنانے کی سازشیں نہ کرتے ہوں۔ سلفیت میں اب کئی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں بڑے بڑے کمرشل اور رہائشی پلازے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
مقامی سماجی کارکن اور محقق خالد معالی نے بتایا کہ فلسطینی اراضی پرقبضہ کرکے بنائی گئی یہودی کالونیوں ارئیل انڈسٹریل کالونی، برکان انڈسٹریل کالونی، ایلی زھاف انڈسٹریل کالونی، لیشم بیت اریہ، بروخین، رفافا، عمونئیل انڈسٹریل کالونی، ویکیر اور دیر استیا کے مغربی حصے کی یہودی کالونیوں میں مزید توسیع کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھدائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
خالد معالی نے بتایا کہ صہیونی حکام کی جانب سے ان دنوں "ارئیل” نامی یہودی کالونی پرتمام توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ مجموعی طورپر سلفیت شہر میں 24 یہودی کالونیوں کے ذریعے فلسطینیوں کی قیمتی زرعی اراضی کو ہتھیانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔
