فلسطین کے ممتاز سیاست دان اور النجاح نیشنل یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر پروفیسرڈاکٹر عبدالستار قاسم نے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمراں جماعت "الفتح” کی موجودہ پالسیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس کی جماعت "الفتح” کو قومی مفاہمت سے کوئی سرو کار نہیں وہ صرف دولت کی حریص جماعت ہے”۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک عرب خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر عبدالستارقاسم نے فلسطینی اور عرب ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ فتح کی میڈیا کوریج کرنا چھوڑ دیں کیونکہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے جنگ لڑنے کے بجائے جماعتی مفادات کے لیے سرگرم ہے۔
ایک سوال کےجواب میں فلسطینی دانشور کا کہنا تھا کہ صدر محمود عباس کی جماعت الفتح بدترین داخلی انتشار کا شکار ہے اور جماعت میں پایا جانے والا یہ اختلاف بنیادی طورپر جماعت میں "مال غنیمت” کی تقسیم کا ایک جھگڑا ہے۔ رہا قومی اصولوں کا معاملہ تو فتح نے عرصہ پہلے اپنے مسلمہ اصول دفن کر دیے تھے۔
ڈاکٹر قاسم کا کہنا تھا کہ فلسطین اس وقت نازک ترین دور سے گذر رہا ہے۔ مسئلہ فلسطین اور قوم کے کاز کو نقصان پہنچانے والے عناصر اور جماعتوں کی نشاندہی کرنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس وقت تمام تر وسائل ذرائع ابلاغ کے تمام اداروں کو مسئلہ فلسطین کو اجاگرکرنے پر مرکوزکرنے کی ضرورت ہے جبکہ فتح نے اپنے زیراثر ذرائع ابلاغ کے تمام ادارے اپنی تشہیر پر لگا رکھے ہیں۔ انہوں نے فتح کو”فضول لوگوں کا گروہ” قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ ہرقسم کا تعاون ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ فتح کی داخلی صفوں میں پائے جانے والے اختلافی اصول نہیں بلکہ "لالچ اور حرص” کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں۔ فتح نے اپنے اصول اس وقت خود ہی ذبح کر دیےتھے جب اس نے فلسطین میں اسرائیل کے ساتھ اوسلو معاہدہ کیا تھا۔ فتح میں سنہ 1988ء کے بعد سے اب تک جماعت سے وابستگان کی تنخواہوں کا معاملہ چلا آ رہا ہے۔ فتح کی مرکزی قیادت پرہمیشہ قوم کے لیے درد دل رکھنے والوں کے بجائے صرف دولت کے پجاریوں کو اپنی اجارہ داری کرنے کا موقع ملا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہیں فتح کی مرکزی کمیٹی نے جماعت کے ایک دیرینہ رکن محمد المشہراوی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ ان پر پارٹی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی سمیت کئی دیگرالزامات عائد کیے گئے تھے۔ گذشتہ برس اسی طرح کے ایک دوسرے کیس میں مرکزی کمیٹی کے رکن اور سابق باغی لیڈر محمد دحلان کو پارٹی سے نکالا گیا تھا۔

