فرانس کے ایک کثیرالاشاعت اخبار‘‘لی مونڈ’’ نے اپنی سترہ ستمبر کی اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ ستمبر1982ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی مہاجر کیمپ صبراو شاتیلا میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردی
میں امریکا بھی ملوث تھا۔ خیال رہے کہ 16 اور 17 ستمبر1982ء کو فلسطینی مہاجرین کے کیمپ پر اسرائیلی فوج نے جنر ایرئیل شیرون کی کمان میں حملہ کردیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں تین ہزارنہتے فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا گیا تھا۔ شہداء کی اکثریت خواتین، بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل تھی۔
فرانسیسی اخبار نے اپنی تازہ رپورٹ میں کولمبیا یونیورسٹی کے ایک امریکی پروفیسر سیٹ انزیسکا کے ایک مضمون کا حوالہ دیا ہے، یہ مضمون کچھ ہی عرصہ قبل اخبار‘‘نیویارک ٹائمز’’میں شائع ہوا تھا۔ مسٹر سیٹ خفیہ دستاویزی ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن اور اسرائیلی فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل ایرئیل شیرون کے ساتھ رابطے تھے۔ خاص طورپر پر ایئریل شیرون نے 15 سے 20 ستمبر کےدرمیان صدر ریگن کے خصوصی مندوب موریس ڈرابر کے ساتھ کئی بار رابطہ کیا۔ انہی دنوں میں صبرا اور شاتیلا کا آپریشن جاری تھا۔ دونوں رہ نماؤں کےدرمیان ہونے والی بات چیت میں آپریشن موضوع بحث رہا۔ خفیہ دستاویزات سےپتہ چلتا ہے کہ ایرئیل شیرون جو اس آپریشن کی خود کی نگرانی کر رہے تھے نے امریکی صدر کے مندوب کو بتایا کہ ‘‘دہشت گردوں کی بڑی تعداد لبنانی دارالحکومت بیروت میں فلسطینیوں کے مہاجر کیمپ صبرا اور شاتیلا میں موجود ہے۔ ہماری فوجیں ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کر رہی ہیں۔ اس پرامریکی سفیرنے صہیونی فوجی جرنیل کو اپنی حکومت کی طرف سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔
اخبار لی مونڈ کے مطابق جب امریکی سفیر نے ایرئیل شیرون سے کہا کہ ان کا ملک اس آپریشن میں آپ کے ساتھ تعاون کرے گا لیکن دنیا کے سامنے اس کا جواز کیسے فراہم کرے گا تو جنرل شیرون نے کہا تھا کہ آپ اگر دنیا کے سامنے موقف بیان کرنے سے خوف زدہ ہیں تو آپ کھل کراس میں ملوث ہونے کا انکار کردینا ہم بھی دنیا کو یہی بتائیں گے کہ اس کارروائی میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس کے بعد امریکی مندوب نے یہ پیغام صدر رونلڈ ریگن تک پہنچایا اور انہوں نے اس آپریشن کی حمایت کرتےہوئے اسرائیل کی ہرممکن مدد کی ہدایت کی تھی۔
خفیہ دستاویزات سے یہ بھی منکشف ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جب بیروت میں داخل ہوکر فلسطینیوں کو قتل کرنا شروع کیا توامریکا کو اسرائیل فوج کے بیروت پرقبضے کا بھی خوف لاحق ہوا تھا۔ اس سلسلے میں امریکا نے جنگ بندی کی بھی کوشش کی لیکن شیرون تمام مہاجرکیمپوں سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے مکمل ختم کرنے تک کسی قسم کی جنگ بندی کے حامی نہیں تھے۔ ایرئیل شیرون اس وقت تک اپنی فوجیں بیروت میں رکھنے پر مصرتھے جب تک ان کے بہ قول آخری مزاحمت کار بھی قتل نہیں کردیا جاتا۔
یادرہے کہ اسرائیل کی سیاہ تاریخ میں جہاں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے دیگر روح فرسا مظالم کی داستانیں شامل ہیں وہیں صبرا اور شاتیلا کا ناقابل فراموش واقعہ بھی ہے۔ خون خوار اسرائیلی فوج کے تین روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں کم سے کم تین ہزار فلسطینیوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ شہداء میں بڑی تعداد کم سن بچوں، عورتوں اور بوڑھوں پر مشتمل تھی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
