
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت نے شہداء فلسطین کے جسد ہائے خاکی پورے قومی اعزازو اکرام کے ساتھ وصول کرکے ان کی تدفین کے انتظامات شروع کردیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو جب صہیونی انتظامیہ کی طرف سے غزہ کی سرحد پر فلسطینی شہداء کی میتیں ان کےورثاء کےحوالے کی گئیں تو اس وقت وہاں پر شہداء کے لواحقین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد جمع تھی ۔ شہداء کی میتیں حکومتی اہلکاروں نے وصول کرکے سرکاری گاڑیوں پر ایک قافلے کی شکل میں شہر تک پہنچائیں۔
اس موقع پر فلسطینی حکومت نے شہداء انتفاضہ اور دیگر معرکوں میں مارے جانے والے فلسطینی شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ میتوں کی غزہ آمد کے بعد میڈیا کو جاری حکومت کے ترجمان طاہر نونو نے ایک بیان میں کہا کہ ” شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ جن فلسطینیوں کی آج ہم میتیں وصول کررہے ہیں انہوں نے قبلہ اول، بیت المقدس اور فلسطینی وطن کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ان کا خون ہماری گردنوںپر ایک قرض ہے، جسے کسی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا”۔ انہوں نے کہا کہ شہداء نے اپنے وطن، دین اور ملت کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور دشمن کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے۔ پوری فلسطینی قوم شہداء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے وطن کی آزادی کے لیے ہر طرح کی قربانی دیتی رہے گی”۔ خیال رہے کہ اسرائیل کے ساتھ مختلف معرکوں میں شہید ہونے والے کئی فلسطینیوں کی میتوں کو صہیونی فوج نے قبضے میں لے رکھا تھا۔ بعض شہداء کو شہید ہوئے کئی عشرے بیت گئے ہیں تاہم صہیونی حکومت نے تمام شہداء کی میتیں ان کے ورثاء کے حوالے کردی ہیں۔ بیشتر شہداء سنہ 2000ء کے بعد شروع ہونے والی دوسری تحریک انتفاضہ کے دوران جام شہادت نوش کر گئے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
