انتہاء پسند یہودی آباد کاروں اور ذرائع ابلاغ کے کارکنوں مسجد اقصی پر دھاوا بولا اور مسجد کے احاطے میں اپنے مزعومہ ھیکل سلیمانی کی منظر کشی پر مبنی فلم بنانا شروع کر دی۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس کی بڑی تعداد شر پسندوں کی حفاظت کر تی رہی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ صہیونی آباد کاروں کی اشتعال انگیز کارروائی پر اسلامی اوقاف کے ڈائریکٹر شیخ عزام الخطیب نے حرم کی نام نہاد اسرائیلی پولیس کے قائد سے رابطہ کیا اور ا ن سے کہا کہ ان انتہاء پسند یہودیوں کو شرانگیز کارروائیوں سے باز رکھا جائے۔ تاہم اسرائیلی پولیس نے یہودیوں کو مسجد سے نکالنے کے بجائے مسجد اقصی کے گارڈز کو ٹیلی ویژن کے عملے اور یہودی آباد کاروں سے سومیٹر دور کر دیا۔
مسجد اقصی کے ایک محافظ نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے ہی یہودی ٹولیوں نے مسجد میں داخل ہونا شروع کر دیا تھا۔ صہیونی آباد کاروں نے مسجد کے احاطوں، گنبد صخرہ، مصلی مروانی اور اسباط دروازے کے قریبی علاقے میں گشت کیا۔ عینی شاہدین کے بہ قول بہت سے انتہاء پسند یہودیوں نے مسجد میں تلمودی رسومات بھی ادا کیں۔
جس وقت شر پسند یہودی قبلہ اول کے تقدس کو پامال کر رہے تھے مسجد کے احاطوںمیں فلسطینی طلبہ و طالبات نے علمی حلقے لگا رکھے تھے۔ اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں ہلہ بولنے والے یہودیوں کی مسجد میں موجودگی سے طلبہ شدید مشتعل ہوگئے اور اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں میں جھڑپیں ہوتی ہوتی رہ گئیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
