شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کے یرموک کیمپ سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون سرکاری فوج کی گولہ باری کی زد میں آ کر شہادت پا گئیں، یہ گولہ باری روڈ 30 پر کی گئی تھی۔
شام میں حکومتی فوج اور باغیوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ روڈ30 پر دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ اور گولہ باری کی جا رہی ہے، یرموک کیمپ کے قریبی علاقوں سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ورکنگ گروپ برائے فلسطینی مہاجرین کا کہنا ہے کہ شامی افواج نے گزشتہ اکتالیس روز سے یرموک کیمپ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور کیمپ میں خوراک اور ادویات سمیت ضروریات زندگی کی اشیاء کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
شامی فوج نے حسینیہ کیمپ کے مختلف مقامات پر بھی فائرنگ کی تاہم اس بمباری میں کوئی فلسطینی زخمی نہیں ہوا۔ کیمپ میں گزشتہ روز فلسطینیوں کی بڑی تعداد واپس آئی۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی کے ماتحت چلنے والے ایک اسکول اور السبینہ کیمپ پر بھی ھاون طرز کے راکٹ داغے گئے۔
دوسری جانب یورپ کے ایک پارلیمانی وفد نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ کا دورہ کیا ہے۔ یہ فلسطینی شام میں جاری جھڑپوں کی وجہ سے ہجرت کر کے لبنان پہنچے ہیں۔ اس دورے کا اہتمام برسلز میں فلسطینی یورپی تعلقات کی کمیٹی ، ورکنگ گروپ برائے فلسطینی پناہ گزیں اور وطن واپسی کے حق کے ثبوت کی کمیٹی نے کیا۔
یہ دورہ چار روز تک جاری رہے گا۔ یورپی اراکین پارلیمان کا یہ وفد لبنانی مہاجر کیمپوں میں موجود فلسطینیوں کی حالت زار انکی معیشت کا جائزہ لیں گے ۔ وفد لبنان میں موجود فلسطینیوں کی مختلف آبادیوں اور کیمپوں کا دورہ کریگا۔
یورپی وفدلبنانی صدر میشیل سلیمان ، وزیر خارجہ عدنان منصور ، لبنان میں فلسطینی سفیر اور یواین ریلیف ایند ورک ایجنسی (انروا) کے سربراہ سے بھی ملاقات کریگا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
