برطانیہ میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم‘‘ مرکز برائے حق واپسی’’ شام میں فلسطینی پناہ گزینوں پر حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک عالمی انکوائری کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ کمیٹی نہ صرف شام میں موجود فلسطینیوں پرحکومت کےخلاف جاری بغاوت کی تحریک کےدوران حملوں کی تحقیقات کرے گی اور آئندہ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لیے بھی کام کرے گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر ماجد الزیر نے منگل کے روز برطانیہ میں ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا کہ انہوں نے مختلف ماہرین قانون اور سیاسی رہ نماؤں سے شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مشکلات کے حل کے سلسلے میں بات چیت کی ہے۔ ہم نہ صرف فلسطینی پناہ گزینوں کو مالی امداد فراہم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہماری تنظیم کام ہی مختلف ملکوں میں عارضی قیام پذیر فلسطینیوں کی بہبود کرنا ہے۔ شام میں پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک کے دوران دمشق اور دیگر شہروں میں موجود فلسطینیوں پرخون ریز حملے ہوتے رہے ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ماجد الزیرنے کہا کہ شام میں کسمپرسی کا زندگی بسرکرنے والے پناہ گزینوں کی نہ صرف مالی مدد کی ضرورت ہے بلکہ مہاجرین کی سیاسی اور قانون مدد کی بھی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔ جب سے فلسطینیوں کے مہاجر کیمپوں پر حملے ہونا شروع ہوئے ہیں فلسطینی خوف زدہ ہیں اور وہ خود کو وہاں پرغیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی تنظیم نے سماجی اداروں کے کارکنوں، صحافیوں، سیاسی رہ نماؤں اور ماہرین قانون پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا جا رہا ہے جو شام میں دگر گوں حالات کی تحقیقات کرنے کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔
اس موقع پر انسانی حقوق کے ایک مندوب اورصحافی فراس ابو ھلال نے شام میں موجود پناہ گزینوں کی تعداد کے بارے میں ایک رپورٹ بھی پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام میں اس وقت کم سے کم 5 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ فلسطین سے شام کی طرف فلسطینیوں کی جبری ھجرت کا سلسلہ سنہ 1948 ء کے بعد شروع ہوا تھا ، جو سنہ 1956 ، 1967 اور 1971 تک جاری رہا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
