فلسطین کے مقبوضہ شہر رام اللہ میں اسرائیل کے نائب وزیراعظم شاؤل موفاز کے دورہ رام اللہ کے خلاف فلسطینیوں کا احتجاج جاری ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے پر قابض صہیونی فوج نے وحشیانہ تشدد کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک صحافی، کارٹونسٹ، تین خواتین اور انسانی حقوق کے پانچ کارکنوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ صہیونی فوج نے کئی شہریوں کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی نائب وزیراعظم شاؤل موفاز آج اتوار کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات کے آ رہے ہیں۔ فلسطینیوں نےان کی آمد کے خلاف گذشتہ تین روز سے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں افراد شریک تھے۔ جبکہ انہیں منتشر کرنے کے لیے صہیونی فوج کی بھی بڑی تعداد جمع تھی۔ قابض فوجیوں نے تشدد کر کے فلسطینی صحافی محمد جرادات کو حراست میں لے لیا، جسے بعد ازاں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ صہیونی فوج نے ایک فنکار اور کارٹونسٹ حافظ عمر کو بھی زخمی حالت میں حراست میں لے لیا ہے۔ خیال رہے کہ حافظ عمر گذشتہ دنوں فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال کے دوران انسےاظہار یکجہتی کرتےہوئے صہیونی فوجیوں کے کارٹون بناتا رہا ہے،جنہیں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر بڑی مقبولیت حاصل رہی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کر کے دسیوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے جنہیں بعد ازاں نامعلوم مقامات کی طرف لے جایا گیا ہے۔ کئی افراد کو پکڑنے کے بعد وہیں تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
رام اللہ میں ایک خبری ذریعے نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ احتجاجی مظاہرے کےشرکاء کی تعداد کم سے کم ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ مظاہرین اسرائیلی نائب وزیراعظم کےخلاف نعرے بازی کے ساتھ ساتھ صہیونی عہدیدار کا اسقبال کرنے والے فلسطینی صدر اور رام اللہ اتھارٹی کے خلاف بھی سخت برہم دکھائی دیتے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
