انتہاء پسند یہودیوں نے مغربی کنارے کے شہر نابلس میں واقع جلیل القدر پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کی ایک بار پھر بے حرمتی کی ہے۔
رات گئے اسرائیلی فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کی نگرانی میں سیکڑوں یہودی آباد کاروں نے مزار مبارک میں گھس کر تلمودی عبادات کی ادائیگی کی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ رات گئے پندرہ کے لگ بھگ فوجی گاڑیاں نابلس کے اس مشرقی علاقے میں داخل ہوئیں۔ ان گاڑیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر کا گھیراؤ کیا اور قبر کے اطراف سکیورٹی سخت کردی، جس کے بعد بسوں اور کاروں میں سوار غاصب یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچی، آنے والے آباد کاروں مزار مبارک کے احاطوں میں دندناتے رہے۔ انہوں نے یہاں پر اپنی مذہبی عبادات کی ادائیگی بھی کی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ غاصب یہودیوں کے اس دھاوے پر علاقے کے نوجوانوں نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ شروع کردیا جس کے بعد صہیونی اہلکاروں نے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے صوتی بموں اور اشک آور گیس کے شیلوں کی بوچھاڑ کر دی۔ فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے مابین جھڑپیں صبح تک جاری رہیں۔ یہودی آباد کاروں بھی صبح تک مزار مبارک میں بڑے لاؤڈ اسپیکرز پر میوزک چلا کر عبادت کرتے رہے، لاؤڈ اسپیکرز پر اونچی آواز سے میوزک سے اہل علاقہ ساری رات اذیت کا شکار رہے۔
واضح رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک مسلمانوں اور عیسائیوں کا مشترکہ مقدس مقام ہے۔ اسرائیل نے سنہ 1967ء میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد سے اس مقدس مقام پر قبضہ کرلیا ہے۔ مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی ملی بھگت سے اب رات کے وقت یہودی آباد کاروں کو مزار مبارک میں داخل ہوکر عبادت ادا کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ یہودی آباد کار آئے روز اسرائیلی فوج کی نگرانی میں حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ تلمودی عبادات کی ادائیگی کے نام پر یہاں پر موسیقی و دیگر بے ہودہ حرکات کی جاتی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
