مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی غصب شدہ اراضی پر مقیم صہیونیوں نے جمعرات کو علی الصباح نابلس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے مقبرے پر دھاوا بول دیا اور وہاں مزعومہ تلمودی عبادات ادا کیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسسز کی حفاظت میں یہودی آبادکار دس بسوں میں سوار ہو کر بلاطہ کیمپ کے قریب حضرت یوسف علیہ السلام کے مقبرے پر حملہ آور ہوئے۔ مقبرے کی جانب آنے والی متعدد سڑکوں پر فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ فوج نے پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کئے۔
یہودی آبادکاروں کی جانب سے حضرت یوسف علیہ السلام کے مقبرے پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ آبادکار یہودی ہر ہفتے جمعرات کو باقاعدگی سے گزشتہ کئی مہینوں سے قبر پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔
ادھر نابلس کی جنوب مشرقی بلدیہ قصرہ میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کی چھے گاڑیاں نذر آتش کر دیں۔
مغربی کنارے کے شمال میں یہودی آباد منصوبے کے نگران نے بتایا گاڑیوں میں سوار آبادکاروں نے رات ایک بجے بلدیہ قصرہ کے اردگرد حملہ کیا اور ایک کارروائی کے دروان شہریوں کی سات گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اس کارروائی کا جواب دینے اہالیاں بلدیہ جب جائے وقوعہ کی طرف دوڑے تو شرپسند ‘یاچ کودچ’ یہودی بستی کی سمت فرار ہو گئے۔
یاد رہے کہ یہودی آبادکاروں کی یہ کارروائی علاقے میں اسرائیلی انتظامیہ کے بلڈوزروں کے ذریعے بلدیہ میں بجلی کی نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے چند گھنٹوں بعد پیش آئی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
