فلسطین کی مختلف سیاسی جماعتوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں حکمراں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے
جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مغربی کنارے میں احتجاجی مظاہرے کرانے والی تنظیموں کے فنڈز روک لیے جائیں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے مرکزی رہ نما اور تنظیم کے سیاسی شعبے کے رکن عبدالعلیم دھنا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کے فنڈز روکنے کی دھمکی دے کر محمود عباس نے قوم سے انتقام لینے کی کوشش کی ہے۔ فلسطینی شہری کسی تنظیم یا سیاسی جماعت کےایماء پر رام اللہ اتھارٹی کےخلاف سراپا احتجاج نہیں ہیں بلکہ وہ سلام فیاض حکومت کی غلط پالیسیوں کےخلاف خود ہی سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ صدر محمود عباس نے مظاہرے کرانے کا الزام عائد کرکے سیاسی جماعتوں کے سرکاری فنڈز روکنے کی دھمکی دے کر سیاسی دھڑوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے فنڈز روکنے کا صدر محمود عباس اور ان کی انتظامیہ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہ سیاسی جماعتوں کو بلیک میل کرنے کے غیرقانونی اقدامات سے گریز کریں اور اپنی غلط معاشی پالیسیوں کو درست کرنے پر توجہ دیں۔
فلسطین کی کئی دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی صدر محمود عباس کے اس اعلان کو مسترد کیا ہے اور اسےسیاسی جماعتوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ان کی حق تلفی سے تعبیر کیا ہے۔ حماس نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ صدر محمود عباس سلام فیاض کی گرتی ساکھ بحال کرنے کے لیے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
