مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسز فریز نے حال ہی میں "یوٹوبوری” شہرمیں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل سے فوجی تعاون کو "زمینی حقیقت” اور وقت کی ضرورت قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج اور فلسطینی سیکیورٹی اداروں کے درمیان دو طرفہ تعاون روز مرہ زندگی کی ایک ضرورت بن چکا ہے۔
ھالہ فریز کا کہنات تھا کہ اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون صرف فلسطینی اتھارٹی کی نہیں بلکہ تمام فلسطینی طبقات کی ضرورت ہے۔ اسے روز مرہ کی بنیاد پر جاری رہنا چاہیے۔ تاہم وہ یہ کہنا بھول گئیں کہ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے اور فلسطینی سیکیورٹی اداروں کو ایک آلہ کار کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اور اسرائیلی کبھی دوست تو نہیں ہوسکتے لیکن وہ اچھے ہمسائے ضرور بن سکتے ہیں۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عرب جنگ نہیں چاہتے اور مذاکرات کے حامی ہیں۔ لہٰذا مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے نتیجے میں شہریوں کو بدترین پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ سلسلے پچھلے نو سال سے زیادہ شدت کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ چپے چپے پر اسرائیلی فوجیوں اور عباس ملیشیا کی چوکیاں ہیں۔ وہ جب چاہتے ہیں فلسطینیوں کے گھروں ہی کو چھائونی میں تبدیل کردیتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
