غزہ میں قائم فلسطینی حکومت کا کہنا ہے کہ محاصرے اور زیر زمین سرنگوں کی بندش کے تناظر میں ملکی معیشت سے متعلق سامنے آنے والے اعداد و شمار غزہ کی پٹی میں تباہ کن حالات کا پتا دے رہے ہیں۔
غزہ میں مالیات کی قومی وزارت کے انڈر سیکرٹری حاتم عویدہ نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کو مصر سے ملانے والی زیر زمین سرنگوں کی سیکیورٹی سخت ہونے سے علاقہ "حقیقی تباہی” کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال تیسری سہ ماہی میں سرنگوں کی بندش سے شہریوں کی زندگی براہ راست متاثر ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کو بین الاقوامی دنیا سے ملانے والی سرکاری کراسنگز کو اسرائیل نے مستقل بند کر رکھا ہے جس کے بعد اہالیاں غزہ ان سرنگوں کے ذریعے بنیادی ضرورت کی اشیاء لانے پر مجبور ہیں۔
حاتم عویدہ کے مطابق یہ سرنگیں غزہ میں تعمیر نو کے لئے تعمیراتی لوازمہ لانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعمیراتی کام کے لئے غزہ کو روزانہ چھے ہزار ٹن بجری، چار ہزار ٹن سیمنٹ اور تین ہزار پانچ سو ٹن لوہا روزانہ کی بنیاد پر درکار ہے، جبکہ ان سرنگوں کے ذریعے بہت کم مقدار میں یہ چیزیں غزہ لائی جا سکتی ہیں۔
بشکریہ؛مرکزاطلاعات فلسطین
