اسرائیلی جیلوں میں موجود پانچ ہزار کے لگ بھگ فلسطینی قیدی اپنے انسانی حقوق سے محروم ہیں لیکن ایلہ جیل کے ان ستائیس اسیران پر صہیونی حکام نے مظالم کی انتہاء کر دی ہے۔ یہ ستائیس افراد ایک بیرک میں دو سے زیادہ نہیں رہ سکتے اور جیل انتظامیہ نے لباس فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
ایشل جیل سے زبردستی اس جیل میں منتقل کیے جانے والے ان افراد کے بیرکوں پر اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ کے دھاوے آئے روز کا معمول تھے، زبردستی قید تنہائی میں ڈالے گئے ان افراد نے اپنے وکیل کو بتایا کہ جیل میں انہیں جو کمبل فراہم کیے گءے ہیں جوہ انتہائی بدبودار ہیں اور سردی کو روکنے کے لیے بھی ناکافی۔ مریض اسیران کی دوائیاں انتہائی کم کردی گئی ہیں جس کے بعد خطرناک امراض میں مبتلا اسیران کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں۔
ان اسیران کو خصوصی طور پر دی جانے والے سزائیں دی گئی ہیں، ستائیس افراد میں سے ہر ایک کو 450 شیکل جرمانہ کیا گیا، ہر ایک کو 21 دن کی قید تنہائی کاٹنا ہوگی، دو ماہ تک اپنے رشتہ داروں سے ملاقات اور کینٹین کی سہولیات سے محرومی بھی بھگتنا ہوگی۔ ان سب کو دو ماہ تک بجلی کی سہولت سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی انتظامیہ نے ان اسیران پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جیل میں سے ایک چھوٹی ویڈیو موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ پر نشر کی تھی، جس پر صہیونی عدالت نے انہیں خصوصی سزا دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
