مغربی کنارے کے طبی ذرائع نے "مرکز اطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار کو بتایا کہ سابق وزیر وصفی قبہا بُدھ کو نابلس شہر کے دورے کے بعد واپس آبائی شہر جنین لوٹ رہے تھے کہ راستے میں انہیں نامعلوم افراد نے گھیر لیا۔ انہیں گاڑی سے اتار کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کا ایک بازو ٹوٹ گیا، جبکہ جسم کے دیگرحصوں پر بھی سخت چوٹیں آئیں ہیں۔ حملہ آور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سڑک پر پھینک گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق نابلس سے واپس ہوتے ہوئے قبہا جب برقین چوک پہنچے تو گھات لگائے نقاب پوش حملہ آوروں نے ان کی گاڑی روک لی۔ انہیں نیچے اتارنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی بھی توڑ دی گئی۔
قبہاء کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سابق وزیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے یہ اس نوعیت کا پہلا حملہ ہے تاہم ان کےسیاسی موقف کی بناء پر انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے کئی بار دھمکیاں موصول ہوچکی ہیں۔ پچھلے چند ماہ کے دوران ان کی کار کی بھی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔
تشدد کا نشانہ بنائے جانے سے قبل وصفی قبہا نے اپنے ایک بیان میں صدر محمود عباس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر پناہ گزینوں کی سنہ 1948ء کے علاقوں واپسی کے حق کی نفی کر کے اسرائیلی ریاست کے یہودی تشخص کو تسلیم کرنے کا کھلا اعلان کر رہے ہیں۔
فی الحال ان پرحملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے البتہ لگ رہا ہے کہ یہ حملہ فتحاوی غنڈہ گردوں کی کارستانی ہے، جو صدرمحمود عباس کی غلط پالیسیوں کےخلاف بولنے والے کسی بھی فلسطینی رہ نما کو برداشت نہیں کرر ہے ہیں۔
درایں اثناء حماس نے سابق وزیر وصفی قبہا پرنامعلوم افراد کے حملے کو مجرمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وصفی قبہا ایک سیاسی رہ نما ہی نہیں بلکہ ایک استاد بھی ہیں۔ ان پرحملہ قومی جرم ہے۔ یہ حملہ جس نےبھی کیا اس نے اسرائیل کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حماس ایسے اسرائیلی ایجنٹوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ایسے عناصر کا فلسطینی قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حماس نے مغربی کنارے میں حکمراں الفتح اور دیگر تمام فلسطینی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں نفرت پھیلانے والے عناصر پرکڑی نظر رکھیں اور انہیں کھل کھیلنے کاموقع دینے کے بجائے ان کی بیخ کنی میں مدد کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ حماس کی قیادت کو دھمکیوں اور پرتشدد حملوں کے ذریعے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ حماس فلسطینی عوام کے حقوق کی آواز بلند کرنے سے باز آجائے لیکن دشمنوں کی یہ سازش کسی صورت میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔
