انسانی حقوق مرکز، فلسطین نے اسرائیلی قید میں موجود معروف فلسطینی رہنما اور القدس سے تعلق رکھنے والے سابق فلسطینی وزیر خالد ابو عرفہ کی خراب صحت
کی ساری ذمہ داری اس جیل انتظامیہ پر عائد کی ہے جو مختلف امراض میں مبتلا ابو عرفہ کے علاج سے مسلسل سے مجرمانہ غفلت پر برت رہی ہے۔
جمعرات کے روز اسیران امور و انسانی حقوق کے ’’مرکز احرار‘‘ کی جانب سے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو موصول ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ شیخ خالد ابو عرفہ ان دنوں شدید تکلیف میں ہیں۔ ان کے گردوں میں شدید درد ہے تاہم جیل انتظامیہ ان کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے مسلسل انکاری ہے۔
مرکز نے بتایا کہ سابق فلسطینی وزیر خالد رمضان کے آخری عشرے سے شدید بیمار ہیں تاہم اب تک انکے علاج کا بندوبست نہیں کیا گیا اور ان کی صحت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ مرکز احرار نے اس موقع پر دنیا بھر کی انسانی حقوق اور اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں سے اس ضمن میں فوری مداخلت کی اپیل بھی کی ۔ خیال رہے کہ خالد ابو عرفہ کو بائیس فروری 2012 کو القدس میں ریڈ کراس کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاجی کیمپ سے اغوا کرلیا گیا تھا، یہاں انہوں نے خود کو القدس سے بے دخل کیے جانے کے اسرائیلی احکامات کے خلاف گزشتہ ڈیڑھ سال سے احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
