(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کےجنوبی شہر بیت لحم سے ایک ہفتے کے دوران ایک ہی خاندان کے چار افراد کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار کیے جانے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کل سوموار کو صہیونی فوجیوں نے بیت لحم کے مشرقی قصبے جناتہ سے سابق فلسطینی اسیر عبداللہ العروج کو حراست میں لے لیا۔ صہیونی فوجیوں نے اسیر کے دو بیٹوں اسماعیل ، ابراہیم جعفراور محمد کے گھروں پربھی چھاپے مارے اور گھروں میں موجود قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی۔ اس موقع پر سابق اسیرکے ایک بیٹے 31 سالہ ابراہیم العروج کو بھی حراست میں لے لیا۔خیال رہے کہ ابراہیم العروج کی گرفتاری سےچار روز پیشتر اس کے دو بھائیوں محمد اور جعفر اور ایک بھائی کی اہلیہ رابعہ العروج کو حراست میں لے لیا تھا۔ رابعہ العروج کے شوہر اسماعیل العروج دو سال سے اسرائیل جیل میں قید ہیں۔ ان دنوں میں حراست میں لیے گئے فلسطینی شہریوں کو مسکوبیہ حراستی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔
اسماعیل اور ابراہیم دونوں سابق اسیر ہیں جو اسرائیلی جیلوں میں 8 سال تک پابند سلاسل رہ چکے ہیں۔ ان کی اسیری کا زیادہ تر عرصہ انتظامی قید پرمشتمل ہے۔
