جرمنی کے شہر اسارلوھن میں درجنوں فلسطینی اور جرمن تنظیموں اور گروپوں نے سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایھود اولمرٹ کےدورہ جرمنی کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کیے۔
ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے ایہود اولمرٹ کے ملک میں استقبال کے بجائے اس کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈ اور فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ انسانی حقوق کے تنظیموں کے رضا کاروں نے اس موقع پر سن 2009ء میں اسرائیلی مسلط کردہ جنگ میں شہید ہونے والے افراد اور تباہ ہونے والے شہروں کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔
جرمنی میں موجود فلسطینی حلقوں کی یونین کے ایک رکن نے بتایا کہ یہ احتجاجی مظاہرہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف ظلم و ستم کی رقم کی جانے والی تاریخی داستانوں کی مذمت میں منعقد کیا گیا ہے۔
فلسطینی حلقوں کی یونین کے ترجمان نبیل ابو استینے نے بھی اس موقع پر کہا کہ ایہود اولمرٹ کو جرمنی کے دورے کی دعوت دینے سے مشرق وسطی میں امن و سلامی کے مقصد کے حصول میں ذرہ بھر کامیابی نہیں ملے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جرمن حکومت اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ تمام عالمی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم میں ملوث ہر قوت کے لیے صرف ایک ہی آپشن ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل کروایا جائے۔ انہوں نے جرمن حکومت اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ ہزاروں فلسطینیوں کے خون بہانے والا اولمرٹ جنگی جرائم میں ملوث ہے۔
خیال رہے کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایھود اولمرٹ اور امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے جمعرات اور جمعہ کے روز ایسارلوھن نامی اسی شہر میں ایک کانفرنس کے دوران طلبہ سے خطاب کیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
