فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور دوسرے علاقوں میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیل پر جمعہ کے روز ہزاروں افراد نے سڑکوںپر نکل کر امریکی فلاحی کارکن ریچل کوری کے قاتلوں کو بری کرنے پر اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
مظاہرے نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد مغربی کنارے کے کئی شہروں، غزہ اور دیگر شہروں میں ہوئے۔ مظاہرین نے اسرائیلی عدالت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی جس میں قرار دیا گیا تھا کہ ریچل کوری کو قتل کرنے میں اسرائیل کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس میں جن فوجی اہلکاروں کو ملوث قرار دیا گیا ہے وہ غلط ہے۔
خیال رہے کہ ریچل کوری امریکا کی ایک نوجوان انسانی حقوق کارکن تھیں۔ تئیس سالہ کوری سنہ 2002ء میں فلسطینیوں کی حمایت میں شروع کی گئی ایک مہم میں شامل ہوئیں۔ 2003ء میں وہ فلسطین آئیں جہاں 16 مارچ 2003 ء کو غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے والے اسرائیلی فوج کےایک بلڈوزر کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے فلسطینیوں کے ساتھ احتجاج کیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے بلڈوزر کے حملے میں ریچل بلڈوزر کے نیچے دب گئیں اور اسی کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گئی تھیں۔
ریچل کوری کے اہل خانہ نے صہیونی فوج کےخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ کئی سال سے جاری اس مقدمے کا فیصلہ گذشتہ ہفتے سنایا گیا، جس میں صہیونی عدالت نے ریچل کی موت پرصرف افسوس کا اظہار کیا اور مقدمے میں نامزد ملزموں کو بری کر دیا تھا۔ اسرائیلی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف جمعہ کے روز فلسطینی شہروں رام اللہ، الخلیل، جنین، نابلس اور غزہ کی پٹی میں احتجاجی جلوس نکالے گئے اور آنجہانی ریچل کوری کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر انسانی حقوق کے مندوبین، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہ نماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ وہ ریچل کوری کے مشن کو جاری رکھیں گے اور صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہو کر لڑیں گے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر‘‘ریچل تیرا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے’ اور کوری کا مشن جاری رہے گا کےنعرے درج تھے۔
فلسطینی شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے صہیونی فوج نے طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کئی غیرملکی شہری اور صحافی بھی شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
