غزہ کی سرحدی کراسنگ اور بارڈر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ماہر ابو صبحہ نے کہا ہے کہ مصر اور غزہ کو ملانے والی رفح کی سرحدی چوکی مسلسل دوسرے روز بھی بند ہے۔ دونوں اطراف سے کسی قسم کی ٹریفک کی آمد و رفت مکمل طور پر بند ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ابو صبحہ کا کہنا تھا کہ مصر کی جانب رفح کراسنگ کے سامنے پولیس اور فوجی اہلکاروں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے جس کی وجہ سے یہ اہم راہداری مکمل طور پر بند ہے۔
تاہم انہوں نے بتایا کہ وہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا سے پیدا ہونے بحران کو حل کرانے کی خاطر مصری فوجی افسروں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ مصری فوجی افسران کا کہنا ہے کہ بحران کا فوری حل دکھائی نہیں دیتا اس لئے رفح کراسنگ تااطلاع ثانی بند رہے گی۔
ادھر پولٹ بیورو حماس کے رہنما ڈاکٹر محمود الزھار نے مصری حکام پر زور دیا ہے کہ وہ رفح کراسنگ کو بلا تاخیر کھلوائیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘فیس بک’ پر اپنے بیان میں محمود الزھار نے کہا ہے کہ مصر، سرحد کے دونوں اطراف پھنسے ہوئے سیکڑوں مسافروں کی مشکلات ختم کرانے کی خاطر فوری طور پر مداخلت کریں۔
مصری پولیس اور فوج کے اہلکار مصری علاقے العریش سے جمعرات کی صبح اپنے سات ساتھیوں کے اغوا کے خلاف احتجاج کے طور پر دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ مصری علاقے شمالی سیناء کے سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے ‘رائیٹرز’ کو بتایا کہ جمعرات کے روز نامعلوم مسلح افراد نے سیناء کے صدر مقام العریش سے سات مصری فوجیوں کو اغوا کر لیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
