غزہ کے درجنوں طلبا نے رفح بارڈر کراسنگ کے سامنے دھرنا دیا جس میں انہوں نے رفح کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ یونیورسٹیوں میں داخلے لے کر اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں۔
مصری حکام نے پچھلے بدھ سے رفح کراسنگ کو بند کررکھا ہے جس کی وجہ سے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے بیمار اور طلبا سرحد پر ہی پھنس کر رہ گئے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء نے فلسطینی اور مصری جھنڈوں کے ساتھ ساتھ پوسٹرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ کے محاصرے کے خاتمے اور رفح کراسنگ کو کھولنے کے لئے نعرے درج تھے۔
اس سے پہلے مصری حکام نے جولائی کے اوائل سے لے کر اب تک کئی بار عارضی طور پر کراسنگ کو کھولا تھا مگر اس سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں اور ان سارے معاملات میں پھنسنے والوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
