مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے سلواد ٹاؤن میں سیکڑوں فلسطینی نوجوانوں کی اسرائیلی فوج کے ساتھ خوفناک جھڑپیں ہوئیں جس میں چار فلسطینی زخمی ہوگئے جبکہ صہیونی فورسز نے دو کو گرفتار کرلیا ہے۔
سلواد ٹاؤن میں لگاتار دوسرے ہفتے سیکڑوں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور گزشتہ ہفتے کی طرح اس مرتبہ بھی صہیونی اہلکاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ غاصب یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی زرعی اراضی پر حملوں اور یہاں کی اراضی پر قبضہ کرکے عوفرا یہودی بستی میں شامل کرنے کے خلاف فلسطینی نوجوانوں نے شدید نعرے بازی کی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی اہلکاروں کی بڑی تعداد فلسطینی احتجاجی مظاہرے پر پل پڑی، مظاہرین پر ربڑ کی گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی، ذرائع کے مطابق ایک ستر سالہ بزرگ خاتون سینے میں ربڑ کی گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگئی۔
سلواد ٹاؤن میں یہودی بستی کے لیے نشان زد کی گئی اراضی پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے فلسطینی نمازیوں کو بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ تاہم نمازیوں نے بھی اسرائیلی اہلکاروں اور غاصب یہودیوں پر بھرپور پتھراؤ کیا جس کی زد میں آکر ایک یہودی زخمی ہوگیا جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ بھی شروع کردی۔
یاد رہے کہ یہودی آباد کار سلواد اور دیر جریر میں فلسطینیوں کی زیر ملکیت اراضی کو عوفرا یہودی بستی میں شامل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی ان جھڑپوں میں کچھ نوجوان زخمی ہوگئے ہیں جنہیں رام اللہ کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیل نے متعدد نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
