فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی و مزاحمتی جماعت حماس کے سیاسی شعبے کے رکن ابو مرزوق نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں اپنے ہی ہم وطنوں پر ظلم و تشدد کیے جانے پر یورپی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کا درد رام اللہ کی فلسطینی اتھارٹی کے بجائے یورپی حلقوں کو زیادہ ہے جو انتہائی قابل افسوس ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے رہ نما ابو مرزوق نے بدھ کے روز سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ”فیس بک” کے اپنے پیج پر کہا کہ وہ خبر جس کو پڑھ کر افسوس ہوتا ہے کہ تھی کہ یورپی یونین نے فلسطینی اتھارٹی کے عقوبت خانوں میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس خبر دو وجہ سے قابل افسوس تھی ایک تو فلسطینی قیدیوں پرمظالم اور دوسرے یورپی یونین کو فلسطینی اتھارٹی سے زیادہ ان اسیران کے حقوق کا درد ہونا۔
ابو مرزوق کا یہ بیان یورپی یونین کے ممالک کے القدس اور رام اللہ میں بھیجے گئے نمائندوں کے اس بیان کے بعد آیا جس میں انہوں نے مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں حماس کے حامی قیدیوں پر دردناک تشدد کی رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ابو مرزوق نے اپنے بیان میں فلسطینی اتھارٹی سے انڈیپنڈنٹ کمیشن فار ہیومن رائٹس کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
