اسرائیل اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان براہ راست روابط کے تعطل کے باوجود فریقین میں خفیہ اوراعلانیہ بات چیت کے تسلسل کا انکشاف ہوا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی اور اسرائیلی حکومت کےدرمیان خفیہ بات چیت کا سلسلہ گذشتہ دو ماہ سےمسلسل جاری ہے۔ فریقین میں فلسطین کے اندر اور باہرمختلف مقامات پرایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ یہ ملاقاتیں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب پیش آئند ہفتے مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کے لیے کوشاں گروپ چارکا اجلاس امریکا میں ہو رہا ہے جس میں فلسطینی اور اسرائیلی قیادت بھی شرکت کرے گی۔ یہ گروپ امریکا، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس پرمشتمل ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ اتھارٹی کے میڈیا ذرائع نے بھی اسرائیل ۔ فلسطین خفیہ رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات آئندہ منگل کو اپنے اسرائیلی ہم منصب اسحاق مولخو سے ملاقات کریں گے۔ قبل ازیں صدر محمود عباس قاہرہ میں اسی طرح کا اعلان کرچکے ہیں۔
ادھر فرانسیسی خبررساں ایجنسی "اے ایف پی” نے فلسطینی اتھارٹی کے ایک اہم عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ صائب عریقات اور اسرائیلی مذاکرات کارکے درمیان ہونے والی بات چیت سے قبل بھی فریقین میں رابطے رہے ہیں۔ اس سے قبل فریقین میں مذاکرات کی پانچ روزہ سیریز میں آخری مرتبہ صائب عریقات اور اسحاق مولخو کی ملاقات 25 جنوری کو اردن کے صدرمقام عمان میں ہوئی تھی۔
اسرائیلی اخبار ہارٹزکی رپورٹ کے مطابق اسحاق مولخو اور صائب عریقات کےدرمیان ایک خفیہ ملاقات گذشتہ ہفتے بھی ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں امن مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کےمطابق عریقات۔ مولخو مذاکرات میں محمود عباس کے ہاں تیار کردہ ایک مراسلے پربھی بات چیت کی گئی جسے فلسطینی صدر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو تحریر کرنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

