فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں جمعہ کے روز اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ نسلی امتیاز کی مظہر دیوارفاصل کے خلاف فلسطینی شہریوں کی پرامن احتجاجی ریلیوں کو کچلنے کے لیے قابض فوج نے طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زخمیوں میں تین غیرملکی شہری اور ایک صحافی بھی ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق نماز جمعہ کے بعد مقامی شہریوں نے مغربی کنارے کے شہروں معصرہ، بلعین، النبی الصالح اور کفرقدوم میں پرامن ریلیوں کا انعقاد کیا۔ قابض فوج اور صہیونی پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین کی ریلیوں میں کئی غیرملکی شہری بھی شامل تھے۔
"پی آئی سی” کے نامہ نگارکے مطابق النبی صالح کالونی میں فلسطینی شہریوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران قابض فوجیوں نے زہریلی آنسوگیس کی شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں تین غیرملکی شہری اور ایک مقامی صحافی بھی زخمی ہوا ہے۔ رام اللہ میں میڈیکل ذرائع کےمطابق جمعہ کے روز پرامن مظاہروں پر طاقت کے استعمال کے بعد درجنوں افراد کو اسپتالوں میں شدید زخمی حالت میں لایا گیا ہے۔ زیادہ تر افراد آنسو گیس کے شیل لگنے سے متاثر ہوئے ہیں اور انہیں بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
درایں اثناء انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی فوج کے ہاتھوں پرامن ریلیوں پر طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ رام اللہ اور اس کے مضافات میں جمعہ کے روز تمام ریلیوں میں شریک افراد کے ہاتھوں میں صرف فلسطینی پرچم، بینرز اور کتبے تھے لیکن صہیونی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کفر قدوم کے مقام پر صہیونی فوج کی جارحیت کے باوجود مظاہرین نے اپنی ریلی جاری رکھی۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے صہیونی فوج نے بعد ازاں آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کر دی، جس کے نتیجے میں دسیوں افراد دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل نے اپنی یہودی کالونیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جگہ جگہ دیوار فاصل تعمیر رکھی ہے۔ نسلی امتیاز کا مظہر یہ دیوار فلسطینیوں کے خلاف ایک ظالمانہ ہتھکنڈہ ہے جس نے فلسطینیوں کا عرصہ حیات بھی تنگ کر دیا ہے۔ مقامی آبادی اسی ظلم کے خلاف کئی سال سے صہیونی ریاست کے خلاف سراپا احتجاج ہے اور ہر جمعہ کو دیوار فاصل گرانے کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
